بیروت10نومبر (آئی این ایس انڈیا) شام کے شمال مشرقی قصبے راس العین میں صدر بشارالاسد کی فوج اور ترک فورسز کے درمیان ہفتے کے روز شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ان جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ترک نواز فورسز کے شام کے ایک سرحدی گاؤں تل شعائر میں حملے کی اطلاع دی ہے۔اس گاؤں میں ہفتے کی صبح سے شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) اور ترک نواز جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں۔رصدگاہ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ترک فوج علاقے میں توپ خانے سے شدید گولہ باری کررہی ہے اوراس نے شامی فوج کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔اس کے علاوہ ترک فوج کے ڈرونز تل تمر اور راس العین کے درمیان واقع علاقے میں مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
دریں اثناء ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ہنگری کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے شمال مشرقی علاقے سے تمام جنگجوؤں کے انخلا تک ترک فوج اپنی کارروائی جاری رکھے گی۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ترکی اس وقت ہی شام کو خالی کرے گا جب وہاں سے دوسرے ممالک نکل جائیں گے۔ترک فوج اور اس کے حامی شامی باغی گروپوں نے نو اکتوبر کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد فورسز کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی تھی۔اس کا سرحد کے ساتھ 30 کلومیٹر کے علاقے میں ایک بفر زون کا قیام ہے۔ترکی کی اس کارروائی کے نتیجے میں کرد فورسز نے عرب اکثریتی 440 کلومیٹرطویل سرحدی علاقے کے 120کلومیٹر طویل حصے سے انخلا سے اتفاق کیا تھا۔امریکا کی ثالثی میں ترکی اور کرد ملیشیا کے درمیان یہ جنگ بندی طے پائی تھی،تاہم اس کے بعد سے ان کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ترکی کا بعد میں شامی حکومت کے پشتیبان روس کے ساتھ بھی ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت انھوں نے کردفورسز کو ترکی کے ساتھ واقع تمام سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانے سے اتفاق کیا تھا۔